5 مئی 2014 - 11:51
ایران کے ایٹمی مذاکرات

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین اور ٹیکنیکل وفد کے تہران پہنچنے کے ساتھ ہی ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان سات شقوں پر مشتمل معاہدے کے آخری مرحلے پر عمل درآمد شروع ہوگیاہے۔

ابنا: ایران کے ایٹمی انرجی کے ادارے کے ترجمان بھروز کمالوندی نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا معاہدے میں جوائنٹ ایکشن پلان کے تحت فریقین نے جن سات نکات پر اتفاق کیا تھا ان پر پندرہ مئی تک عمل درآمد ہوگا اور یہ کام معینہ مدت کے اندر انجام پاجائےگا۔

تہران میں فروری دوہزارتیرہ میں ایران  اور آئی اے ای اے کے وفد کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایران اور آئی اے ای اے نے سات عملی اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔

ان اقدامات میں، طرفین  کے درمیان متفقہ مسائل کے سلسلے میں اطلاعات پیش کرنا، یزد کے ساغند ذخائر اور اردکان کے ایلو کیک کے کارخانے تک منظم دسترس، اور اراک کے ہیوی واٹرپلانٹ کے بارے میں جدید ترین اطلاعات پیش کرنا شامل ہے۔ معاہدوں کی ان شقوں پر آئی اے ای اے کے ٹیکنیکل وفد کے دورے اور یزد اور اردکان میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ان دونوں مراکز کے معائنے کے موقع پر عمل درآمد شروع ہوجائےگا۔

ایران کی ایٹمی انرجی کے ادارے کے ترجمان کمالوندی نے اس کے ساتھ ہی اس طرح کی بعض خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہ اراک کے ہیوی واٹر پلانٹ کو ہلکے پانی کے پلانٹ میں تبدیل کر دیا جائےگا تاکید کے ساتھ کہا کہ ہرگز ایسا نہيں ہے اور یہ ہماری ریڈ لائن ہے۔

کمالوندی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ خود اراک کے ہیوی واٹرپلانٹ میں تبدیلی کو قبول نہیں کیاگیا ہے کہا کہ ایران کے حقوق سے ہرگز دستبردار نہيں ہوں گے۔

ایران کی ایٹمی انرجی کے ادارے کے ترجمان نے کہا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات بند نہيں کی جائيں گی اور ان تنصیبات کی ماہیت ناقابل تبدیل ہے۔

اس طرح کے دورے اور اس کے بعد سامنے آنے والی رپورٹیں، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان حتمی اتفاق رائے کی زمین ہموار کرتی ہیں۔

ایران اورگروپ پانچ جمع ایک تقریبا ایک ہفتے بعد ، جامع اور طویل مدت منصوبے کے حصول کی غرض سے ایٹمی مذاکرات کا چوتھا دور شروع کریں گے۔

فریقین نےاعلان کیا ہے کہ مذاکرات کے اس دور میں جامع مذاکرات کے لئے مسودہ تیار کرنے پر بحث ہونے کا امکان ہے۔

اس طرح حتمی نتائج تک پہنچنے کےلئے ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مذاکرات، میں تیزی آگئي ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پاگیا تو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک عشرے سے جاری ہنگامہ آرائی ختم ہوجائےگی۔

درحقیقت ایران نے مشترکہ اقدام کے منصوبے کے تناظر میں جس بات پراتفاق کیا ہے وہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی کوشش ميں نہيں ہے۔ چنانچہ ایران کے ایٹمی مذاکرات کی بنیاد یہ ہے کہ تہران اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے گا اور یہ پروگرام این پی ٹی کی شقوں اور اس میں موجود قوانین کے مطابق ہوگا۔

اس مسئلے کے پیش نظر حتمی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان سیاسی اور ٹیکنیکل مذاکرات نہایت پیچیدہ کام ہے اور مسلمہ امر یہ ہے کہ اس معاہدے کی راہ میں بہت سی مشکلات ہيں لیکن ماہرین کاخیال ہے کہ چیلنجوں سے پر

ان مذاکرات کوحتمی نتیجے تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

 .......

 /169